منگلورو 18؍اگست (ایس او نیوز)ابوظہبی کے لئے روانہ ہونے والے طیارے میں سوار ہونے سے پہلے امیگریشن اور سیکیوریٹی مرحلے پر عبداللہ(۴۳ سال) نامی جس مسافر کو کل منگلورو ایئر پورٹ پر 26عدد مختلف لوگوں کے پاسپورٹس کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا، اس کے بارے میں پولیس نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ مذکورہ مسافر ایک ٹریویل ایجنٹ ہے اور اس کے پاس سے برآمد تمام پاسپورٹس اصلی ہیں۔ واضح ہو کہ کوئی بھی شخص کسی کی طرف سے تحریری اجازت نامے کے بغیر کسی دوسرے کا پاسپورٹ ملک سے باہر نہیں لے جاسکتا۔ اور عبداللہ کو گرفتار کرنے کا سبب یہی تھاکہ وہ غیر مجازی طور اتنے سارے پاسپورٹ اپنے ساتھ لے جارہاتھا۔ اس کے علاوہ اس کے پاس موجود پاسپورٹس میں دو پاسپورٹ امریکی شہریوں کے بھی تھے۔
پولیس کے افسران نے عبداللہ کی بڑی دیر تک تفتیش کرنے کے بعد بتایا کہ وہ ایک ٹریویل ایجنٹ ہے اور دبئی میں موجودصداقت اللہ نامی ایک دوسرے ٹریویل ایجنٹ نے ان 26لوگوں کے لئے حج کے دستاویزات حاصل کرنے میں عبداللہ کا تعاون مانگا تھا۔
تفصیل یہ بتائی جاتی ہے کہ عبداللہ ا ن پاسپورٹس کے ساتھ 5؍اگست کو دبئی سے کوزی کوڈ پہنچا۔ اتفاق سے اس وقت کوزی کوڈ ایئر پورٹ پر سیکیوریٹی چیک کے وقت افسران کی نظروں سے وہ بچ کر نکل گیا۔پھر وہ کیرالہ کی ایک ٹریویل ایجنسی میں پہنچا اور وہاں سے ان26 لوگوں کے لئے حج کے سفر کا انتظام کرنے کی کوشش کی ۔ مگر اس ایجنسی نے معذوری ظاہر کی تو عبداللہ یہ پاسپورٹس واپس لوٹانے کے لئے اپنے ساتھ دبئی لے جارہاتھا۔اور اس بار وہ افسران کے شکنجے میں پھنس گیا۔
پولیس کمشنر ایم چندر سیکھر نے بتایا کہ حالانکہ عبداللہ نے کسی بھی بری نیت کے بغیر یہ کام انجام دیا تھا، مگر کسی اور کا پاسپورٹ غیر مجازی طور پر اپنے پاس رکھنا قانوناً جرم ہے اس لئے اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ پولیس کمشنر نے بھی اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ پاسپورٹ نقلی نہیں تھے۔پھربھی انہوں نے اس معاملے کی مزید گہرائی سے جانچ کرنے کہی ہے۔